ایک سورج کا کیا ذکر ہے کہکشائیں چلیں

اظہار اثر

ایک سورج کا کیا ذکر ہے کہکشائیں چلیں

اظہار اثر

MORE BYاظہار اثر

    ایک سورج کا کیا ذکر ہے کہکشائیں چلیں

    میں چلا تو مرے ساتھ ساری دشائیں چلیں

    آگے آگے جنوں تھا مرا گرد اڑاتا ہوا

    پیچھے پیچھے مرے آندھیوں کی بلائیں چلیں

    کوئی زنجیر ٹوٹی تھی یا دل کی آواز تھی

    دائرے سے بنائی ہوئی کیوں صدائیں چلیں

    میں چلا تو ہر اک چیز ٹھہری ہوئی سی لگی

    میں رکا تو یہ دھرتی چلی یہ فضائیں چلیں

    اک شہادت نما تشنگی تھی مقدر مرا

    میں جدھر بھی گیا ساتھ میں کربلائیں چلیں

    جانے کس کے رسیلے لبوں کے مہک لائی تھیں

    زخم آواز دینے لگے جب ہوائیں چلیں

    ان سے ملنے کا منظر بھی دل چسپ تھا اے اثرؔ

    اس طرف سے بہاریں چلیں اور ادھر سے خزائیں چلیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY