فصیل شہر تمنا میں در بناتے ہوئے

آفتاب حسین

فصیل شہر تمنا میں در بناتے ہوئے

آفتاب حسین

MORE BYآفتاب حسین

    فصیل شہر تمنا میں در بناتے ہوئے

    یہ کون دل میں در آیا ہے گھر بناتے ہوئے

    نشیب چشم تماشا بنا گیا مجھ کو

    کہیں بلندی ایام پر بناتے ہوئے

    میں کیا کہوں کہ ابھی کوئی پیش رفت نہیں

    گزر رہا ہوں ابھی رہ گزر بناتے ہوئے

    کسے خبر ہے کہ کتنے نجوم ٹوٹ گرے

    شب سیاہ سے رنگ سحر بناتے ہوئے

    پتے کی بات بھی منہ سے نکل ہی جاتی ہے

    کبھی کبھی کوئی جھوٹی خبر بناتے ہوئے

    مگر یہ دل مرا یہ طائر بہشت مرا

    اتر ہی آیا کہیں مستقر بناتے ہوئے

    دلوں کے باب میں کیا دخل آفتاب حسینؔ

    سو بات پھیل گئی مختصر بناتے ہوئے

    مآخذ:

    • کتاب : Pakistani Adab (Pg. 284)
    • Author : Dr. Rashid Amjad
    • مطبع : Pakistan Academy of Letters, Islambad, Pakistan (2009)
    • اشاعت : 2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY