فکر نو ذوق تپاں سے آئی ہے

نشور واحدی

فکر نو ذوق تپاں سے آئی ہے

نشور واحدی

MORE BYنشور واحدی

    فکر نو ذوق تپاں سے آئی ہے

    گرد تھوڑی کارواں سے آئی ہے

    زندگی پرچھائیاں اپنی لیے

    آئنوں کے درمیاں سے آئی ہے

    سیکھ کر جادو وہ چشم مے فروش

    محفل جادوگراں سے آئی ہے

    رات کے افسوں جگاتے ہی رہے

    نیند اپنی داستاں سے آئی ہے

    ہو لیے ہم زندگی کے ساتھ ساتھ

    یہ نہیں پوچھا کہاں سے آئی ہے

    داغ ہائے سینہ میں یہ تازگی

    التفات ناگہاں سے آئی ہے

    کیا خبر تجھ کو اسیر نو بہار

    کتنی رعنائی خزاں سے آئی ہے

    انقلاب نو میں یہ قوت نشورؔ

    میرے دست ناتواں سے آئی ہے

    مآخذ:

    • کتاب : Sawad-e-manzil (Pg. 211)
    • Author : Nushoor Wahedi
    • مطبع : Maktaba Jamia Ltd, Delhi (2009)
    • اشاعت : 2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY