گئے منظروں سے یہ کیا اڑا ہے نگاہ میں

آفتاب حسین

گئے منظروں سے یہ کیا اڑا ہے نگاہ میں

آفتاب حسین

MORE BYآفتاب حسین

    گئے منظروں سے یہ کیا اڑا ہے نگاہ میں

    کوئی عکس ہے کہ غبار سا ہے نگاہ میں

    ہمہ وقت اپنی شبیہ کے ہوں میں روبرو

    کوئی اشک ہے کہ یہ آئینہ ہے نگاہ میں

    کوئی شہر خواب گزر رہا ہے خیال سے

    کوئی دشت شام سلگ رہا ہے نگاہ میں

    کف درد سے غم کائنات کی گرد سے

    وہی مٹ رہا ہے جو نقش سا ہے نگاہ میں

    کوئی تیرگی ہے فرات جاں میں رواں دواں

    مگر اک چراغ سا تیرتا ہے نگاہ میں

    گئے موسموں کی وہ سبز رنگ حکایتیں

    کوئی آب سرخ سے لکھ گیا ہے نگاہ میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY