گھر غیر کے جو یار مرا رات سے گیا

آفتاب شاہ عالم ثانی

گھر غیر کے جو یار مرا رات سے گیا

آفتاب شاہ عالم ثانی

MORE BYآفتاب شاہ عالم ثانی

    گھر غیر کے جو یار مرا رات سے گیا

    جی سینے سے نکل گیا دل ہات سے گیا

    میں جان سے گیا تری خاطر ولیک حیف

    تو مجھ سے ظاہری بھی مدارات سے گیا

    یا سال و ماہ تھا تو مرے ساتھ یا تو اب

    برسوں میں ایک دن کی ملاقات سے گیا

    دیکھا جو بات کرتے تجھے رات غیر سے

    دل میرا ہاتھ سیتی اسی بات سے گیا

    اس رشک مہ کی بزم میں جاتے ہی آفتابؔ

    دل سا رفیق میرا مرے سات سے گیا

    RECITATIONS

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    گھر غیر کے جو یار مرا رات سے گیا فصیح اکمل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY