گلاب ہاتھ میں ہو آنکھ میں ستارہ ہو

پروین شاکر

گلاب ہاتھ میں ہو آنکھ میں ستارہ ہو

پروین شاکر

MORE BYپروین شاکر

    گلاب ہاتھ میں ہو آنکھ میں ستارہ ہو

    کوئی وجود محبت کا استعارہ ہو

    میں گہرے پانی کی اس رو کے ساتھ بہتی رہوں

    جزیرہ ہو کہ مقابل کوئی کنارہ ہو

    کبھی کبھار اسے دیکھ لیں کہیں مل لیں

    یہ کب کہا تھا کہ وہ خوش بدن ہمارا ہو

    قصور ہو تو ہمارے حساب میں لکھ جائے

    محبتوں میں جو احسان ہو تمہارا ہو

    یہ اتنی رات گئے کون دستکیں دے گا

    کہیں ہوا کا ہی اس نے نہ روپ دھارا ہو

    افق تو کیا ہے در کہکشاں بھی چھو آئیں

    مسافروں کو اگر چاند کا اشارا ہو

    میں اپنے حصے کے سکھ جس کے نام کر ڈالوں

    کوئی تو ہو جو مجھے اس طرح کا پیارا ہو

    اگر وجود میں آہنگ ہے تو وصل بھی ہے

    وہ چاہے نظم کا ٹکڑا کہ نثر پارہ ہو

    RECITATIONS

    صبیحہ خان

    صبیحہ خان

    صبیحہ خان

    گلاب ہاتھ میں ہو آنکھ میں ستارہ ہو صبیحہ خان

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY