گلوں کے درمیاں اچھی لگی ہیں

محمد علوی

گلوں کے درمیاں اچھی لگی ہیں

محمد علوی

MORE BYمحمد علوی

    گلوں کے درمیاں اچھی لگی ہیں

    ہمیں یہ تتلیاں اچھی لگی ہیں

    گلی میں کوئی گھر اچھا نہیں تھا

    مگر کچھ کھڑکیاں اچھی لگی ہیں

    نہا کر بھیگے بالوں کو سکھاتی

    چھتوں پر لڑکیاں اچھی لگی ہیں

    حنائی ہاتھ دروازے سے باہر

    اور اس میں چوڑیاں اچھی لگی ہیں

    بچھڑتے وقت ایسا بھی ہوا ہے

    کسی کی سسکیاں اچھی لگی ہیں

    حسینوں کو لیے بیٹھیں ہیں علویؔ

    تبھی تو کرسیاں اچھی لگی ہیں

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY