ہم جو گر کر سنبھل جائیں گے

زبیر امروہوی

ہم جو گر کر سنبھل جائیں گے

زبیر امروہوی

MORE BYزبیر امروہوی

    ہم جو گر کر سنبھل جائیں گے

    راستے خود بدل جائیں گے

    قہقہوں کو ذرا روکئے

    ورنہ آنسو مچل جائیں گے

    دوستوں کے ٹھکانے بہت

    آستینوں میں پل جائیں گے

    نور ہم سے طلب تو کرو

    ہم چراغوں میں ڈھل جائیں گے

    آئینوں سے نہ روٹھا کرو

    ورنہ چہرے بدل جائیں گے

    دیکھیے مجھ کو مت دیکھیے

    لوگ دیکھیں گے جل جائیں گے

    کیا خبر تھی کہ اس دور میں

    کھوٹے سکے بھی چل جائیں گے

    غم تو غم ہی رہیں گے زبیرؔ

    غم کے عنواں بدل جائیں گے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY