ہم نے سب شعر میں سنوارے تھے

فیض احمد فیض

ہم نے سب شعر میں سنوارے تھے

فیض احمد فیض

MORE BYفیض احمد فیض

    INTERESTING FACT

    ۱۹۷۲ میں لکھی گئ

    ہم نے سب شعر میں سنوارے تھے

    ہم سے جتنے سخن تمہارے تھے

    رنگ و خوشبو کے حسن و خوبی کے

    تم سے تھے جتنے استعارے تھے

    تیرے قول و قرار سے پہلے

    اپنے کچھ اور بھی سہارے تھے

    جب وہ لعل و گہر حساب کیے

    جو ترے غم نے دل پہ وارے تھے

    میرے دامن میں آ گرے سارے

    جتنے طشت فلک میں تارے تھے

    عمر جاوید کی دعا کرتے

    فیضؔ اتنے وہ کب ہمارے تھے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    فیض احمد فیض

    فیض احمد فیض

    عابدہ پروین

    عابدہ پروین

    مآخذ:

    • کتاب : Nuskha Hai Wafa (Pg. 518)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY