ہم تو جیسے وہاں کے تھے ہی نہیں

جون ایلیا

ہم تو جیسے وہاں کے تھے ہی نہیں

جون ایلیا

MORE BY جون ایلیا

    ہم تو جیسے وہاں کے تھے ہی نہیں

    بے اماں تھے اماں کے تھے ہی نہیں

    ہم کہ ہیں تیری داستاں یکسر

    ہم تری داستاں کے تھے ہی نہیں

    ان کو آندھی میں ہی بکھرنا تھا

    بال و پر آشیاں کے تھے ہی نہیں

    اب ہمارا مکان کس کا ہے

    ہم تو اپنے مکاں کے تھے ہی نہیں

    ہو تری خاک آستاں پہ سلام

    ہم ترے آستاں کے تھے ہی نہیں

    ہم نے رنجش میں یہ نہیں سوچا

    کچھ سخن تو زباں کے تھے ہی نہیں

    دل نے ڈالا تھا درمیاں جن کو

    لوگ وہ درمیاں کے تھے ہی نہیں

    اس گلی نے یہ سن کے صبر کیا

    جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    ہم تو جیسے وہاں کے تھے ہی نہیں نعمان شوق

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites