ہمیں سفر کی اذیت سے پھر گزرنا ہے

آشفتہ چنگیزی

ہمیں سفر کی اذیت سے پھر گزرنا ہے

آشفتہ چنگیزی

MORE BYآشفتہ چنگیزی

    ہمیں سفر کی اذیت سے پھر گزرنا ہے

    تمہارے شہر میں فکر و نظر پہ پہرا ہے

    سزا کے طور پہ میں دوستوں سے ملتا ہوں

    اثر شکست پسندی کا مجھ پہ گہرا ہے

    وہ ایک لخت خلاؤں میں گھورتے رہنا

    کسی طویل مسافت کا پیش خیمہ ہے

    یہ اور بات کہ تم بھی یہاں کے شہری ہو

    جو میں نے تم کو سنایا تھا میرا قصہ ہے

    ہم اپنے شانوں پہ پھرتے ہیں قتل گاہ لیے

    خود اپنے قتل کی سازش ہمارا ورثہ ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY