ہر چند تری یاد جنوں خیز بہت ہے

عباس تابش

ہر چند تری یاد جنوں خیز بہت ہے

عباس تابش

MORE BYعباس تابش

    ہر چند تری یاد جنوں خیز بہت ہے

    میں جاگ رہا ہوں کہ ہوا تیز بہت ہے

    کیوں کر نہ مرے تن سے چھلک جائے خموشی

    پیمانۂ جاں ضبط سے لبریز بہت ہے

    کیا کوہ گراں ٹھہرے تری راہ گزر میں

    اے حسن تری ایک ہی مہمیز بہت ہے

    اک چاند کی کشتی ہی نہیں ڈوبنے والی

    ورنہ وہ سمندر تو بلا خیز بہت ہے

    گلدان سے لگتے ہی بکھر جاتی ہے تتلی

    گویا یہ رگ سنگ بھی خوں ریز بہت ہے

    پلکوں پہ کوئی پھول نہیں ہے تو عجب کیا

    کہنے کو تو مٹی مری زرخیز بہت ہے

    تم خود سا سمجھ کر نہ اسے ہاتھ لگانا

    وہ خاک کا پتلا ہی سہی تیز بہت ہے

    دھرنا ہے کہیں تو یہ گراں بارئ خاطر

    زانو جو نہیں سر کے لئے میز بہت ہے

    کیا ہے جو کٹورے کے بھی پیراک نہیں ہم

    جینے کو تو یہ حیلۂ تبریز بہت ہے

    تابشؔ جو گزرتی ہی نہیں شام کی حد سے

    سوچیں تو وہیں رات سحر خیز بہت ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Ishq Abaab (Pg. 185)
    • Author : Abbas Tabish
    • اشاعت : 2011

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے