ہر پھول ہے ہواؤں کے رخ پر کھلا ہوا

آفتاب حسین

ہر پھول ہے ہواؤں کے رخ پر کھلا ہوا

آفتاب حسین

MORE BYآفتاب حسین

    ہر پھول ہے ہواؤں کے رخ پر کھلا ہوا

    اور میں ہوں اپنے خواب کے اندر کھلا ہوا

    یہ میں جو رات دن نہیں اپنے حواس میں

    وہ باغ ہے ضرور کہیں پر کھلا ہوا

    کچھ میرے سر کو بھی تھی مہک سی چڑھی ہوئی

    کچھ وہ بھی سامنے تھا برابر کھلا ہوا

    خوابوں میں خوشبوئیں سی خیالوں میں رنگ سے

    یہ باغ ہو اگر کہیں باہر کھلا ہوا

    کن منظروں میں مجھ کو مہکنا تھا آفتابؔ

    کس ریگزار پر ہوں میں آ کر کھلا ہوا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    ہر پھول ہے ہواؤں کے رخ پر کھلا ہوا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY