ہر وقت فکر مرگ غریبانہ چاہئے

مجید امجد

ہر وقت فکر مرگ غریبانہ چاہئے

مجید امجد

MORE BY مجید امجد

    ہر وقت فکر مرگ غریبانہ چاہئے

    صحت کا ایک پہلو مریضانہ چاہئے

    دنیائے بے طریق میں جس سمت بھی چلو

    رستے میں اک سلام رفیقانہ چاہئے

    آنکھوں میں امڈے روح کی نزدیکیوں کے ساتھ

    ایسا بھی ایک دور کا یارانہ چاہئے

    کیا پستیوں کی ذلتیں کیا عظمتوں کے فوز

    اپنے لیے عذاب جداگانہ چاہئے

    اب درد شش بھی سانس کی کوشش میں ہے شریک

    اب کیا ہو اب تو نیند کو آ جانا چاہئے

    روشن ترائیوں سے اترتی ہوا میں آج

    دو چار گام لغزش مستانہ چاہئے

    امجدؔ ان اشک بار زمانوں کے واسطے

    اک ساعت بہار کا نذرانہ چاہئے

    مآخذ:

    • کتاب : Kulliyaat-e-majiid Amjad (Pg. 717)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY