اشارتوں کی وہ شرحیں وہ تجزیہ بھی گیا

انور مسعود

اشارتوں کی وہ شرحیں وہ تجزیہ بھی گیا

انور مسعود

MORE BY انور مسعود

    اشارتوں کی وہ شرحیں وہ تجزیہ بھی گیا

    جو گرد متن بنا تھا وہ حاشیہ بھی گیا

    وہ دل ربا سے جو سپنے تھے لے اڑیں نیندیں

    دھنک نگر سے وہ دھندلا سا رابطہ بھی گیا

    عجیب لطف تھا نادانیوں کے عالم میں

    سمجھ میں آئیں تو باتوں کا وہ مزہ بھی گیا

    ہمیں بھی بننے سنورنے کا دھیان رہتا تھا

    وہ ایک شخص کہ تھا ایک آئینہ بھی، گیا

    بڑا سکون ملا آج اس کے ملنے سے

    چلو یہ دل سے توقع کا وسوسہ بھی گیا

    گلوں کو دیکھ کے اب راکھ یاد آتی ہے

    خیال کا وہ سہانا تلازمہ بھی گیا

    مسافرت پہ میں تیشے کے سنگ نکلا تھا

    جدھر گیا ہوں مرے ساتھ راستہ بھی گیا

    ہمیں تو ایک نظر نشر کر گئی انورؔ

    ہمارے ہاتھ سے دل کا مسودہ بھی گیا

    مآخذ:

    • Book : funoon-volume-21 (Pg. 339)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY