جاتے جاتے دیکھنا پتھر میں جاں رکھ جاؤں گا

محمد علوی

جاتے جاتے دیکھنا پتھر میں جاں رکھ جاؤں گا

محمد علوی

MORE BYمحمد علوی

    جاتے جاتے دیکھنا پتھر میں جاں رکھ جاؤں گا

    کچھ نہیں تو ایک دو چنگاریاں رکھ جاؤں گا

    نیند میں بھی خواب رکھنے کی جگہ باقی نہیں

    سوچتا ہوں یہ خزانہ اب کہاں رکھ جاؤں گا

    سب نمازیں باندھ کر لے جاؤں گا میں اپنے ساتھ

    اور مسجد کے لیے گونگی اذاں رکھ جاؤں گا

    جانتا ہوں یہ تماشہ ختم ہونے کا نہیں

    ہال میں اک روز خالی کرسیاں رکھ جاؤں گا

    چاند سورج اور تارے پھونک ڈالوں گا سبھی

    اس زمیں پر ایک ننگا آسماں رکھ جاؤں گا

    چھوڑ دوں گا اب میں علویؔ آخری دن کی تلاش

    اور ادب کے شہر میں خالی مکاں رکھ جاؤں گا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY