جفا کے ذکر پہ وہ بد حواس کیسا ہے

عبدالصمد تپشؔ

جفا کے ذکر پہ وہ بد حواس کیسا ہے

عبدالصمد تپشؔ

MORE BYعبدالصمد تپشؔ

    جفا کے ذکر پہ وہ بد حواس کیسا ہے

    ذرا سی بات تھی لیکن اداس کیسا ہے

    نہ جانے کون فضاؤں میں زہر گھول گیا

    ہرا بھرا سا شجر بے لباس کیسا ہے

    مری طرح سے نہ حق بات تم کہو دیکھو

    بلا کا سایہ مرے آس پاس کیسا ہے

    یہ فیصلہ ہے کہ ہم اپنے حق سے باز آئیں

    تو پھر یہ لہجہ یہ ترا، التماس کیسا ہے

    وہی جو شہر کے لوگوں میں تھا بہت بد نام

    وہی تو آج سراپا سپاس کیسا ہے

    میں کیا کہوں کہ میں کیوں دل سے ہو گیا مجبور

    تم ہی بتاؤ کہ وہ خوش لباس کیسا ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Mata-e-Aainda (Pg. 115)
    • Author : Abdussamad Tapish
    • مطبع : Abdussamad Tapish (2000)
    • اشاعت : 2000

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے