جیسی ہونی ہو وہ رفتار نہیں بھی ہوتی

احمد خیال

جیسی ہونی ہو وہ رفتار نہیں بھی ہوتی

احمد خیال

MORE BYاحمد خیال

    جیسی ہونی ہو وہ رفتار نہیں بھی ہوتی

    راہ اس سمت کی ہموار نہیں بھی ہوتی

    میں تہی دست لڑائی کے ہنر سیکھتا ہوں

    کبھی اس ہاتھ میں تلوار نہیں بھی ہوتی

    پھر بھی ہم لوگ تھے رسموں میں عقیدوں میں جدا

    گر یہاں بیچ میں دیوار نہیں بھی ہوتی

    وہ مری ذات سے انکار کیے رکھتا ہے

    گر کبھی صورت انکار نہیں بھی ہوتی

    جس کو بے کار سمجھ کر کسی کونے میں رکھیں

    ایسا ہوتا ہے کہ بے کار نہیں بھی ہوتی

    دل کسی بزم میں جاتے ہی مچلتا ہے خیالؔ

    سو طبیعت کہیں بے زار نہیں بھی ہوتی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے