جوانی کیا ہوئی اک رات کی کہانی ہوئی

عبید اللہ علیم

جوانی کیا ہوئی اک رات کی کہانی ہوئی

عبید اللہ علیم

MORE BYعبید اللہ علیم

    جوانی کیا ہوئی اک رات کی کہانی ہوئی

    بدن پرانا ہوا روح بھی پرانی ہوئی

    کوئی عزیز نہیں ما سوائے ذات ہمیں

    اگر ہوا ہے تو یوں جیسے زندگانی ہوئی

    نہ ہوگی خشک کہ شاید وہ لوٹ آئے پھر

    یہ کشت گزرے ہوئے ابر کی نشانی ہوئی

    تم اپنے رنگ نہاؤ میں اپنی موج اڑوں

    وہ بات بھول بھی جاؤ جو آنی جانی ہوئی

    میں اس کو بھول گیا ہوں وہ مجھ کو بھول گیا

    تو پھر یہ دل پہ کیوں دستک سی ناگہانی ہوئی

    کہاں تک اور بھلا جاں کا ہم زیاں کرتے

    بچھڑ گیا ہے تو یہ اس کی مہربانی ہوئی

    مآخذ
    • کتاب : Chand Chehra Sitara Aankhen (Pg. 37)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY