جھمک دکھاتے ہی اس دل ربا نے لوٹ لیا

نظیر اکبرآبادی

جھمک دکھاتے ہی اس دل ربا نے لوٹ لیا

نظیر اکبرآبادی

MORE BYنظیر اکبرآبادی

    جھمک دکھاتے ہی اس دل ربا نے لوٹ لیا

    ہمیں تو پہلے ہی اس کی ادا نے لوٹ لیا

    نگہ کے ٹھگ کی لگاوٹ نے فن سے کر غافل

    ہنسی نے ڈال دی پھانسی دعا نے لوٹ لیا

    وفا جفا نے یہ کی جنگ زر گری ہم سے

    وفا نے باتوں لگایا جفا نے لوٹ لیا

    لٹے ہم اس کی گلی میں تو یوں پکارے لوگ

    کہ اک فقیر کو اک بادشا نے لوٹ لیا

    ابھی کہیں تو کسی کو نہ اعتبار آوے

    کہ ہم کو راہ میں اک آشنا نے لوٹ لیا

    ہزاروں قافلے جس شوخ نے کیے غارت

    نظیرؔ کو بھی اسی بے وفا نے لوٹ لیا

    مأخذ :
    • کتاب : Intekhab-e-Nazeer Akbarabadi (Pg. 205)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY