جن کے نصیب میں آب و دانہ کم کم ہوتا ہے

اکبر حیدرآبادی

جن کے نصیب میں آب و دانہ کم کم ہوتا ہے

اکبر حیدرآبادی

MORE BYاکبر حیدرآبادی

    جن کے نصیب میں آب و دانہ کم کم ہوتا ہے

    مائل ان کی سمت زمانہ کم کم ہوتا ہے

    رستے ہی میں ہو جاتی ہیں باتیں بس دو چار

    اب تو ان کے گھر بھی جانا کم کم ہوتا ہے

    مشکل ہی سے کر لیتی ہے دنیا اسے قبول

    ایسی حقیقت جس میں فسانہ کم کم ہوتا ہے

    کبھی جو باتیں عشق کے سال و سن کا حاصل تھیں

    اب ان باتوں کا یاد آنا کم کم ہوتا ہے

    رند سبھی ساغر پر ساغر چھلکاتے جاتے ہیں

    کیوں لبریز مرا پیمانہ کم کم ہوتا ہے

    بات پتے کی کر جاتا ہے یوں تو کبھی کبھی

    ہوش میں لیکن یہ دیوانہ کم کم ہوتا ہے

    کتنی مقدس ہوگی اکبرؔ اس بچے کی پیاس

    جس کی اک ٹھوکر سے روانہ زمزم ہوتا ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Firdaus-e-Khayal (Poetry) (Pg. 24)
    • Author : Akbar Hyderabadi
    • مطبع : Nirali Duniya Publications (2002)
    • اشاعت : 2002

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY