جس سے مل بیٹھے لگی وہ شکل پہچانی ہوئی

آشفتہ چنگیزی

جس سے مل بیٹھے لگی وہ شکل پہچانی ہوئی

آشفتہ چنگیزی

MORE BYآشفتہ چنگیزی

    جس سے مل بیٹھے لگی وہ شکل پہچانی ہوئی

    آج تک ہم سے یہی بس ایک نادانی ہوئی

    سیکڑوں پردے اٹھا لائے تھے ہم بازار سے

    گتھیاں کچھ اور الجھیں اور حیرانی ہوئی

    ہم تو سمجھے تھے کہ اس سے فاصلے مٹ جائیں گے

    خود کو ظاہر بھی کیا لیکن پشیمانی ہوئی

    کیا بتائیں فکر کیا ہے اور کیا ہے جستجو

    ہاں طبیعت دن بہ دن اپنی بھی سیلانی ہوئی

    کیوں کھلونے ٹوٹنے پر آب دیدہ ہو گئے

    اب تمہیں ہم کیا بتائیں کیا پریشانی ہوئی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY