جو چیز تھی کمرے میں وہ بے ربط پڑی تھی

عادل منصوری

جو چیز تھی کمرے میں وہ بے ربط پڑی تھی

عادل منصوری

MORE BYعادل منصوری

    جو چیز تھی کمرے میں وہ بے ربط پڑی تھی

    تنہائیٔ شب بند قبا کھول رہی تھی

    آواز کی دیوار بھی چپ چاپ کھڑی تھی

    کھڑکی سے جو دیکھا تو گلی اونگھ رہی تھی

    بالوں نے ترا لمس تو محسوس کیا تھا

    لیکن یہ خبر دل نے بڑی دیر سے دی تھی

    ہاتھوں میں نیا چاند پڑا ہانپ رہا تھا

    رانوں پہ برہنہ سی نمی رینگ رہی تھی

    یادوں نے اسے توڑ دیا مار کے پتھر

    آئینے کی خندق میں جو پرچھائیں پڑی تھی

    دنیا کی گزرتے ہوئے پڑتی تھیں نگاہیں

    شیشے کی جگہ کھڑکی میں رسوائی جڑی تھی

    ٹوٹی ہوئی محراب سے گنبد کے کھنڈر تک

    اک بوڑھے موذن کی صدا گونج رہی تھی

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    جو چیز تھی کمرے میں وہ بے ربط پڑی تھی نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY