کب صبا سوئے اسیران قفس آتی ہے

مصحفی غلام ہمدانی

کب صبا سوئے اسیران قفس آتی ہے

مصحفی غلام ہمدانی

MORE BYمصحفی غلام ہمدانی

    کب صبا سوئے اسیران قفس آتی ہے

    کب یہ ان تک خبر آمد گل لاتی ہے

    دختر رز کی ہوں صحبت کا مباشر کیوں کر

    ابھی کمسن ہے بہت مرد سے شرماتی ہے

    کیونکہ فربہ نہ نظر آوے تری زلف کی لٹ

    جونک سی یہ تو مرا خون ہی پی جاتی ہے

    جسم نے روح رواں سے یہ کہا تربت میں

    اب مجھے چھوڑ کے تنہا تو کہاں جاتی ہے

    کیا مگر اس نے سنا شہرۂ حسن اس گل کا

    آنکھیں کحال سے نرگس بھی جو بنواتی ہے

    لاکھ ہم شعر کہیں لاکھ عبارت لکھیں

    بات وہ ہے جو ترے دل میں جگہ پاتی ہے

    ہووے کس طرح دلیرانہ وہ عاشق سے دو چار

    اپنے بھی عکس سے جو آنکھ کہ شرماتی ہے

    مصحفیؔ کو نہیں کچھ وصف اضافی سے تو کام

    شعر کہنا زبس اس کا صفت ذاتی ہے

    مآخذ :
    • کتاب : kulliyat-e-mas.hafii(haftum) (Pg. 312)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY