کبھی حریف کبھی ہم نوا ہمیں ٹھہرے

فراغ روہوی

کبھی حریف کبھی ہم نوا ہمیں ٹھہرے

فراغ روہوی

MORE BYفراغ روہوی

    کبھی حریف کبھی ہم نوا ہمیں ٹھہرے

    کہ دشمنوں کے بھی مشکل کشا ہمیں ٹھہرے

    کسی نے راہ کا پتھر ہمیں کو ٹھہرایا

    یہ اور بات کہ پھر آئینہ ہمیں ٹھہرے

    جو آزمایا گیا شہر کے فقیروں کو

    تو جاں نثار طریق انا ہمیں ٹھہرے

    ہمیں خدا کے سپاہی ہمیں مہاجر بھی

    تھے حق شناس تو پھر رہنما ہمیں ٹھہرے

    دلوں پہ قول و عمل کے وہ نقش چھوڑے ہیں

    کہ پیشواؤں کے بھی پیشوا ہمیں ٹھہرے

    فراغؔ رن میں کبھی ہم نے منہ نہیں موڑا

    مقام عشق سے بھی آشنا ہمیں ٹھہرے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے