کبھی جو راستہ ہموار کرنے لگتا ہوں

آفتاب حسین

کبھی جو راستہ ہموار کرنے لگتا ہوں

آفتاب حسین

MORE BYآفتاب حسین

    کبھی جو راستہ ہموار کرنے لگتا ہوں

    کچھ اور بھی اسے دشوار کرنے لگتا ہوں

    مرے وجود کے اندر بھڑکنے لگتا ہے

    جب اس چراغ کا انکار کرنے لگتا ہوں

    نظر میں لاتا ہوں اس چشم نیم باز کو میں

    اور اپنے آپ کو بیمار کرنے لگتا ہوں

    جہاں بھی کوئی ذرا ہنس کے بات کرتا ہے

    میں اپنے زخم نمودار کرنے لگتا ہوں

    وہ شور ہوتا ہے خوابوں میں آفتابؔ حسینؔ

    کہ خود کو نیند سے بیدار کرنے لگتا ہوں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    کبھی جو راستہ ہموار کرنے لگتا ہوں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY