کبھی کبھی کوئی چہرہ یہ کام کرتا ہے

ظفر صہبائی

کبھی کبھی کوئی چہرہ یہ کام کرتا ہے

ظفر صہبائی

MORE BYظفر صہبائی

    کبھی کبھی کوئی چہرہ یہ کام کرتا ہے

    مرے بدن میں لہو تیز گام کرتا ہے

    ہر ایک لفظ کو ماہ تمام کرتا ہے

    مری زبان سے جب وہ کلام کرتا ہے

    کئی دنوں کے سفر سے میں جب پلٹتا ہوں

    وہ اپنے پورے بدن سے کلام کرتا ہے

    بہت عزیز ہیں اس کو بھی چھٹیاں میری

    وہ روز کوئی نیا اہتمام کرتا ہے

    شکایتوں کی ادا بھی بڑی نرالی ہے

    وہ جب بھی ملتا ہے جھک کر سلام کرتا ہے

    میں مشتہر ہوں ستم گر کی مہربانی سے

    وہ اپنے سارے ستم میرے نام کرتا ہے

    کسی کے ہاتھ میں خنجر کسی کے ہاتھ میں پھول

    قلم ہے ایک مگر کتنے کام کرتا ہے

    جب اس سے ملتا ہوں دفتر کو بھول جاتا ہوں

    ظفرؔ وہ باتوں ہی باتوں میں شام کرتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY