کبھی قریب کبھی دور ہو کے روتے ہیں

اظہر عنایتی

کبھی قریب کبھی دور ہو کے روتے ہیں

اظہر عنایتی

MORE BYاظہر عنایتی

    کبھی قریب کبھی دور ہو کے روتے ہیں

    محبتوں کے بھی موسم عجیب ہوتے ہیں

    ذہانتوں کو کہاں وقت خوں بہانے کا

    ہمارے شہر میں کردار قتل ہوتے ہیں

    فضا میں ہم ہی بناتے ہیں آگ کے منظر

    سمندروں میں ہمیں کشتیاں ڈبوتے ہیں

    پلٹ چلیں کہ غلط آ گئے ہمیں شاید

    رئیس لوگوں سے ملنے کے وقت ہوتے ہیں

    میں اس دیار میں ہوں بے سکون برسوں سے

    جہاں سکون سے اجداد میرے سوتے ہیں

    گزار دیتے ہیں عمریں خلوص کی خاطر

    پرانے لوگ بھی اظہرؔ عجیب ہوتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY