کل اپنے شہر کی بس میں سوار ہوتے ہوئے

افضل خان

کل اپنے شہر کی بس میں سوار ہوتے ہوئے

افضل خان

MORE BYافضل خان

    کل اپنے شہر کی بس میں سوار ہوتے ہوئے

    وہ دیکھتا تھا مجھے اشک بار ہوتے ہوئے

    پرندے آئے تو گنبد پہ بیٹھ جائیں گے

    نہیں شجر کی ضرورت مزار ہوتے ہوئے

    ہے ایک اور بھی صورت رضا و کفر کے بیچ

    کہ شک بھی دل میں رہے اعتبار ہوتے ہوئے

    مرے وجود سے دھاگا نکل گیا ہے دوست

    میں بے شمار ہوا ہوں شمار ہوتے ہوئے

    ڈبو رہا ہے مجھے ڈوبنے کا خوف اب تک

    بھنور کے بیچ ہوں دریا کے پار ہوتے ہوئے

    وہ قید خانہ غنیمت تھا مجھ سے بے گھر کو

    یہ ذہن ہی میں نہ آیا فرار ہوتے ہوئے

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY