کمی ذرا سی اگر فاصلے میں آ جائے

فراغ روہوی

کمی ذرا سی اگر فاصلے میں آ جائے

فراغ روہوی

MORE BYفراغ روہوی

    کمی ذرا سی اگر فاصلے میں آ جائے

    وہ شخص پھر سے مرے رابطے میں آ جائے

    اسے کرید رہا ہوں طرح طرح سے کہ وہ

    جہت جہت سے مرے جائزے میں آ جائے

    کمال جب ہے کہ سنورے وہ اپنے درپن میں

    اور اس کا عکس مرے آئینے میں آ جائے

    کیا ہے ترک تعلق تو مڑ کے دیکھنا کیا

    کہیں نہ فرق ترے فیصلے میں آ جائے

    دماغ اہل محبت کا ساتھ دیتا نہیں

    اسے کہو کہ وہ دل کے کہے میں آ جائے

    وہ میری راہ میں آنکھیں بچھائے بیٹھا ہو

    یہ واقعہ بھی کبھی دیکھنے میں آ جائے

    وہ ماہتاب زمانہ ہے لوگ کہتے ہیں

    تو اس کا نور مرے شب کدے میں آ جائے

    بس اک فراغؔ بچا ہے جنوں پسند یہاں

    کہو کہ وہ بھی مرے قافلے میں آ جائے

    مأخذ :
    • کتاب : Ghazal Ke Rang (Pg. 255)
    • Author : Akram Naqqash, Sohil Akhtar
    • مطبع : Aflaak Publications, Gulbarga (2014)
    • اشاعت : 2014

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY