کرتا کچھ اور ہے وہ دکھاتا کچھ اور ہے

آفتاب حسین

کرتا کچھ اور ہے وہ دکھاتا کچھ اور ہے

آفتاب حسین

MORE BYآفتاب حسین

    کرتا کچھ اور ہے وہ دکھاتا کچھ اور ہے

    دراصل سلسلہ پس پردہ کچھ اور ہے

    ہر دم تغیرات کی زد میں ہے کائنات

    دیکھیں پلک جھپک کے تو نقشہ کچھ اور ہے

    جو کچھ نگاہ میں ہے حقیقت میں وہ نہیں

    جو تیرے سامنے ہے تماشا کچھ اور ہے

    رکھ وادئ جنوں میں قدم پھونک پھونک کر

    اے بے خبر سنبھل کہ یہ رشتہ کچھ اور ہے

    تحریر اور کچھ ہے سر متن زندگی

    اور حاشیے میں ہے جو حوالہ کچھ اور ہے

    ہر چند دل دھڑکتا ہے پل پل گھڑی گھڑی

    لیکن جو آج دل کو ہے دھڑکا کچھ اور ہے

    اتنی بھی احتیاط نہ کر جان آفتابؔ

    خدشے کچھ اور ہوتے ہیں ہوتا کچھ اور ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY