کون بتائے کون سجھائے کون سے دیس سدھار گئے

حبیب جالب

کون بتائے کون سجھائے کون سے دیس سدھار گئے

حبیب جالب

MORE BY حبیب جالب

    کون بتائے کون سجھائے کون سے دیس سدھار گئے

    ان کا رستہ تکتے تکتے نین ہمارے ہار گئے

    کانٹوں کے دکھ سہنے میں تسکین بھی تھی آرام بھی تھا

    ہنسنے والے بھولے بھالے پھول چمن کے مار گئے

    ایک لگن کی بات ہے جیون ایک لگن ہی جیون ہے

    پوچھ نہ کیا کھویا کیا پایا کیا جیتے کیا ہار گئے

    آنے والی برکھا دیکھیں کیا دکھلائے آنکھوں کو

    یہ برکھا برساتے دن تو بن پریتم بیکار گئے

    جب بھی لوٹے پیار سے لوٹے پھول نہ پا کر گلشن میں

    بھونرے امرت رس کی دھن میں پل پل سو سو بار گئے

    ہم سے پوچھو ساحل والو کیا بیتی دکھیاروں پر

    کھیون ہارے بیچ بھنور میں چھوڑ کے جب اس پار گئے

    مآخذ:

    • Book: kulliyat-e-habib jaalib (Pg. 61)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites