کون ہے کس کا یہ پیغام ہے کیا عرض کروں

برقی اعظمی

کون ہے کس کا یہ پیغام ہے کیا عرض کروں

برقی اعظمی

MORE BYبرقی اعظمی

    کون ہے کس کا یہ پیغام ہے کیا عرض کروں

    زندگی نامۂ گمنام ہے کیا عرض کروں

    دے کے وہ دعوت نظارہ جہاں پھر نہ ملا

    یہ وہی جلوہ گہ عام ہے کیا عرض کروں

    زندگی اس نے بدل کر مری رکھ دی ایسی

    نہ مجھے چین نہ آرام ہے کیا عرض کروں

    حسرت و یاس کا مسکن ہے مرا خانۂ دل

    سونا سونا یہ در و بام ہے کیا عرض کروں

    آگے پیچھے ہے مرے ایک مصائب کا ہجوم

    آج ناکامی بہر گام ہے کیا عرض کروں

    میری قسمت میں لکھی تشنہ لبی ہے شاید

    اس کے ہاتھوں میں بھرا جام ہے کیا عرض کروں

    جب سے وہ خانہ بر انداز ہے سرگرم عمل

    جس طرف دیکھیے کہرام ہے کیا عرض کروں

    صبح امید کب آئے گی نہ جانے برقیؔ

    مضطرب دل یہ سر شام ہے کیا عرض کروں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY