خاک چہرے پہ مل رہا ہوں میں

عزیز نبیل

خاک چہرے پہ مل رہا ہوں میں

عزیز نبیل

MORE BYعزیز نبیل

    خاک چہرے پہ مل رہا ہوں میں

    آسماں سے نکل رہا ہوں میں

    چپکے چپکے وہ پڑھ رہا ہے مجھے

    دھیرے دھیرے بدل رہا ہوں میں

    میں نے سورج سے دوستی کی ہے

    شام ہوتے ہی ڈھل رہا ہوں میں

    ایک آتش کدہ ہے یہ دنیا

    جس میں صدیوں سے جل رہا ہوں میں

    راستوں نے قبائیں سی لی ہیں

    اب سفر کو مچل رہا ہوں میں

    اب مری جستجو کرے صحرا

    اب سمندر پہ چل رہا ہوں میں

    خواب آنکھوں میں چبھ رہے تھے نبیلؔ

    سو یہ آنکھیں بدل رہا ہوں میں

    RECITATIONS

    عزیز نبیل

    عزیز نبیل

    عزیز نبیل

    خاک چہرے پہ مل رہا ہوں میں عزیز نبیل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY