خوف و وحشت بر سر بازار رکھ جاتا ہے کون

عبدالصمد تپشؔ

خوف و وحشت بر سر بازار رکھ جاتا ہے کون

عبدالصمد تپشؔ

MORE BYعبدالصمد تپشؔ

    خوف و وحشت بر سر بازار رکھ جاتا ہے کون

    یوں رگ احساس پر تلوار رکھ جاتا ہے کون

    کیوں وہ ملنے سے گریزاں اس قدر ہونے لگے

    میرے ان کے درمیاں دیوار رکھ جاتا ہے کون

    منبر و محراب سے آتش فشاں ہوتے تو ہیں

    وقت کی دہلیز پر دستار رکھ جاتا ہے کون

    بس خدا غافل نہیں ہے ورنہ اس منجدھار میں

    میری کشتی کے لئے پتوار رکھ جاتا ہے کون

    یہ مرا ذوق سفر ہے ورنہ ایسی دھوپ میں

    ہر قدم پر اک شجر چھتنار رکھ جاتا ہے کون

    دل بڑی نازک سی شے ہے ان سے اتنا پوچھیے

    ٹوٹے شیشوں کا یہاں انبار رکھ جاتا ہے کون

    تیرگی اپنا مقدر لکھ چکی پھر بھی تپشؔ

    آئنے میں اک غلط پندار رکھ جاتا ہے کون

    مأخذ :
    • کتاب : Mata-e-Aainda (Pg. 24)
    • Author : Abdussamad Tapish
    • مطبع : Abdussamad Tapish (2000)
    • اشاعت : 2000

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے