خزاں کا رنگ درختوں پہ آ کے بیٹھ گیا

فاضل جمیلی

خزاں کا رنگ درختوں پہ آ کے بیٹھ گیا

فاضل جمیلی

MORE BYفاضل جمیلی

    خزاں کا رنگ درختوں پہ آ کے بیٹھ گیا

    میں تلملا کے اٹھا پھڑپھڑا کے بیٹھ گیا

    کسی نے جام اچھالا بنام شام الم

    کوئی ملال کی وحشت چھپا کے بیٹھ گیا

    ملا نہ جب کوئی محفل میں ہم نشینی کو

    میں اک خیال کے پہلو میں جا کے بیٹھ گیا

    پرانے یار بھی آپس میں اب نہیں ملتے

    نہ جانے کون کہاں دل لگا کے بیٹھ گیا

    ملے بغیر بچھڑنے کو کیا کہا جائے

    بس اک خلش تھی جسے میں نبھا کے بیٹھ گیا

    میں اپنے آپ سے آگے نکلنے والا تھا

    سو خود کو اپنی نظر سے گرا کے بیٹھ گیا

    کسے خبر تھی نہ جائے گی دل کی ویرانی

    میں آئینوں میں بہت سج سجا کے بیٹھ گیا

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    فاضل جمیلی

    فاضل جمیلی

    RECITATIONS

    فاضل جمیلی

    فاضل جمیلی

    فاضل جمیلی

    خزاں کا رنگ درختوں پہ آ کے بیٹھ گیا فاضل جمیلی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY