خزاں کے جانے سے ہو یا بہار آنے سے

بسمل  عظیم آبادی

خزاں کے جانے سے ہو یا بہار آنے سے

بسمل  عظیم آبادی

MORE BYبسمل  عظیم آبادی

    خزاں کے جانے سے ہو یا بہار آنے سے

    چمن میں پھول کھلیں گے کسی بہانے سے

    وہ دیکھتا رہے مڑ مڑ کے سوئے در کب تک

    جو کروٹیں بھی بدلتا نہیں ٹھکانے سے

    اگل نہ سنگ ملامت خدا سے ڈر ناصح

    ملے گا کیا تجھے شیشوں کے ٹوٹ جانے سے

    زمانہ آپ کا ہے اور آپ اس کے ہیں

    لڑائی مول لیں ہم مفت کیوں زمانے سے

    خدا کا شکر سویرے ہی آ گیا قاصد

    میں بچ گیا شب فرقت کے ناز اٹھانے سے

    میں کچھ کہوں نہ کہوں کہہ رہی ہے خاک جبیں

    کہ اس جبیں کو ہے نسبت اک آستانے سے

    قیامت آئے قیامت سے میں نہیں ڈرتا

    اٹھا تو دے کوئی پردہ کسی بہانے سے

    خبر بھی ہے تجھے آئینہ دیکھنے والے

    کہاں گیا ہے دوپٹہ سرک کے شانے سے

    یہ زندگی بھی کوئی زندگی ہوئی بسملؔ

    نہ رو سکے نہ کبھی ہنس سکے ٹھکانے سے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY