خود مری آنکھوں سے اوجھل میری ہستی ہو گئی

مظفر وارثی

خود مری آنکھوں سے اوجھل میری ہستی ہو گئی

مظفر وارثی

MORE BYمظفر وارثی

    خود مری آنکھوں سے اوجھل میری ہستی ہو گئی

    آئینہ تو صاف ہے تصویر دھندلی ہو گئی

    سانس لیتا ہوں تو چبھتی ہیں بدن میں ہڈیاں

    روح بھی شاید مری اب مجھ سے باغی ہو گئی

    فاش کر دیں میں نے خود اندر کی بے ترتیبیاں

    زندگی آرائشوں میں اور ننگی ہو گئی

    پیار کرتی ہیں مرے رستوں سے کیا کیا بندشیں

    توڑ دی زنجیر تو دیوار اونچی ہو گئی

    میری جانب آئے پس منظر سے پتھر بے شمار

    رنگ دنیا دیکھ کر بینائی زخمی ہو گئی

    پڑ گیا پردہ سماعت پر تری آواز کا

    ایک آہٹ کتنے ہنگاموں پہ حاوی ہو گئی

    کر گیا ہے مبتلائے کرب اور اک سانحہ

    اور کچھ دن زندہ رہنے کی تلافی ہو گئی

    خواہشوں کی آگ بھی بھڑکائے گی اب کیا مجھے

    راکھ بھی میری مظفرؔ اب تو ٹھنڈی ہو گئی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY