کھلی کتاب کے صفحے الٹتے رہتے ہیں

گلزار

کھلی کتاب کے صفحے الٹتے رہتے ہیں

گلزار

MORE BYگلزار

    کھلی کتاب کے صفحے الٹتے رہتے ہیں

    ہوا چلے نہ چلے دن پلٹتے رہتے ہیں

    بس ایک وحشت منزل ہے اور کچھ بھی نہیں

    کہ چند سیڑھیاں چڑھتے اترتے رہتے ہیں

    مجھے تو روز کسوٹی پہ درد کستا ہے

    کہ جاں سے جسم کے بخیے ادھڑتے رہتے ہیں

    کبھی رکا نہیں کوئی مقام صحرا میں

    کہ ٹیلے پاؤں تلے سے سرکتے رہتے ہیں

    یہ روٹیاں ہیں یہ سکے ہیں اور دائرے ہیں

    یہ ایک دوجے کو دن بھر پکڑتے رہتے ہیں

    بھرے ہیں رات کے ریزے کچھ ایسے آنکھوں میں

    اجالا ہو تو ہم آنکھیں جھپکتے رہتے ہیں

    مأخذ :
    • کتاب : Chand Pukhraj Ka (Pg. 170)
    • Author : Gulzar
    • مطبع : Roopa And Company (1995)
    • اشاعت : 1995

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے