خوش بہت پھرتے ہیں وہ گھر میں تماشا کر کے

ظفر اقبال

خوش بہت پھرتے ہیں وہ گھر میں تماشا کر کے

ظفر اقبال

MORE BY ظفر اقبال

    خوش بہت پھرتے ہیں وہ گھر میں تماشا کر کے

    کام نکلا تو ہے ان کا مجھے رسوا کر کے

    روک رکھنا تھا ابھی اور یہ آواز کا رس

    بیچ لینا تھا یہ سودا ذرا مہنگا کر کے

    اس طرف کام ہمارا تو نہیں ہے کوئی

    آ نکلتے ہیں کسی شام تمہارا کر کے

    مٹ گئی ہے کوئی مڑتی ہوئی سی موج ہوا

    چھپ گیا ہے کوئی تارا سا اشارا کر کے

    فرق اتنا نہ سہی عشق و ہوس میں لیکن

    میں تو مر جاؤں ترا رنگ بھی میلا کر کے

    صاف و شفاف تھی پانی کی طرح نیت دل

    دیکھنے والوں نے دیکھا اسے گدلا کر کے

    شوق سے کیجیے اور دیر نہ فرمائیے گا

    کچھ اگر آپ کو مل جائے گا ایسا کر کے

    یوں بھی سجتی ہے بدن پر یہ محبت کیا کیا

    کبھی پہنوں اسی ملبوس کو الٹا کر کے

    مجھ سے چھڑوائے مرے سارے اصول اس نے ظفرؔ

    کتنا چالاک تھا مارا مجھے تنہا کر کے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites