خواہش ہمارے خون کی لبریز اب بھی ہے

اقبال اشہر قریشی

خواہش ہمارے خون کی لبریز اب بھی ہے

اقبال اشہر قریشی

MORE BYاقبال اشہر قریشی

    خواہش ہمارے خون کی لبریز اب بھی ہے

    کچھ نرم پڑ گئی ہے مگر تیز اب بھی ہے

    اس زندگی کے ساتھ بزرگوں نے دی ہمیں

    اک ایسی مصلحت جو شر انگیز اب بھی ہے

    حالانکہ اضطراب ہے ظاہر سکون سے

    کیا کیجیے اس کا لہجہ دل آویز اب بھی ہے

    مدت ہوئی شباب کے چرچے تھے شہر میں

    وہ زعفرانی رنگ ستم خیز اب بھی ہے

    اشہرؔ بہت سی پتیاں شاخوں سے چھن گئیں

    تفسیر کیا کریں کہ ہوا تیز اب بھی ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Be Sada Fariyad (Pg. 113)
    • Author : Iqbal Ashhar Qureshi
    • مطبع : Sarvottam Marketing in Corporation Vivekanand Nagar Kamti, Mumbai ( 2012)
    • اشاعت :  2012

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY