کہ جیسے کوئی مسافر وطن میں لوٹ آئے

امیر امام

کہ جیسے کوئی مسافر وطن میں لوٹ آئے

امیر امام

MORE BYامیر امام

    کہ جیسے کوئی مسافر وطن میں لوٹ آئے

    ہوئی جو شام تو پھر سے تھکن میں لوٹ آئے

    نہ آبشار نہ صحرا لگا سکے قیمت

    ہم اپنی پیاس کو لے کر دہن میں لوٹ آئے

    سفر طویل بہت تھا کسی کی آنکھوں تک

    تو اس کے بعد ہم اپنے بدن میں لوٹ آئے

    کبھی گئے تھے ہواؤں کا سامنا کرنے

    سبھی چراغ اسی انجمن میں لوٹ آئے

    کسی طرح تو فضاؤں کی خامشی ٹوٹے

    تو پھر سے شور سلاسل چلن میں لوٹ آئے

    امیرؔ امام بتاؤ یہ ماجرا کیا ہے

    تمہارے شعر اسی بانکپن میں لوٹ آئے

    RECITATIONS

    امیر امام

    امیر امام

    امیر امام

    کہ جیسے کوئی مسافر وطن میں لوٹ آئے امیر امام

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY