کسے بتاتے کہ منظر نگاہ میں کیا تھا

آشفتہ چنگیزی

کسے بتاتے کہ منظر نگاہ میں کیا تھا

آشفتہ چنگیزی

MORE BYآشفتہ چنگیزی

    کسے بتاتے کہ منظر نگاہ میں کیا تھا

    ہر ایک رنگ میں اپنا ہی بس تماشا تھا

    ہم آج تک تو کوئی امتیاز کر نہ سکے

    یہاں تو جو بھی ملا ہے وہ تیرے جیسا تھا

    عجیب خواب تھا تعبیر کیا ہوئی اس کی

    کہ ایک دریا ہواؤں کے رخ پہ بہتا تھا

    نہ کوئی ظلم نہ ہلچل نہ مسئلہ کوئی

    ابھی کی بات ہے میں حادثے اگاتا تھا

    ہر ایک شخص نے اپنے سے منسلک سمجھی

    کوئی کہانی کسی کی کسی سے کہتا تھا

    ہمارا نام تھا آشفتہ حال لوگوں میں

    خزاں پسند طبیعت کا اپنی چرچا تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY