کوئی منظر بھی سہانا نہیں رہنے دیتے

فارغ بخاری

کوئی منظر بھی سہانا نہیں رہنے دیتے

فارغ بخاری

MORE BYفارغ بخاری

    کوئی منظر بھی سہانا نہیں رہنے دیتے

    آنکھ میں رنگ تماشا نہیں رہنے دیتے

    چہچہاتے ہوئے پنچھی کو اڑا دیتے ہیں

    کسی سر میں کوئی سودا نہیں رہنے دیتے

    روشنی کا کوئی پرچم جو اٹھا کر نکلے

    اس طرح دار کو زندہ نہیں رہنے دیتے

    کیا زمانہ ہے یہ کیا لوگ ہیں کیا دنیا ہے

    جیسا چاہے کوئی ویسا نہیں رہنے دیتے

    کیا کہیں دیدہ ورو ہم تو وہ دریا دل ہیں

    کبھی ساحل کو بھی پیاسا نہیں رہنے دیتے

    رہزنوں کا وہی منشور ہے اب بھی فارغؔ

    سر کشیدہ کوئی جادہ نہیں رہنے دیتے

    مأخذ :
    • کتاب : Shora-e-London (Pg. 150)
    • Author : Jauhar Zahiri
    • مطبع : Books From India (U.K) Ltd. 45, Museum Street,Londan W.C-1 (1985)
    • اشاعت : 1985

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY