کچھ ایسا اترا میں اس سنگ دل کے شیشے میں

مظفر وارثی

کچھ ایسا اترا میں اس سنگ دل کے شیشے میں

مظفر وارثی

MORE BYمظفر وارثی

    کچھ ایسا اترا میں اس سنگ دل کے شیشے میں

    کہ چند سانس بھی آئے نہ اپنے حصے میں

    وہ ایک ایسے سمندر کے روپ میں آیا

    کہ عمر کٹ گئی جس کو عبور کرنے میں

    مجھے خود اپنی طلب کا نہیں ہے اندازہ

    یہ کائنات بھی تھوڑی ہے میرے کاسے میں

    ملی تو ہے مری تنہائیوں کو آزادی

    جڑی ہوئی ہیں کچھ آنکھیں مگر دریچے میں

    غنیم بھی کوئی مجھ کو نظر نہیں آتا

    گھرا ہوا بھی ہوں چاروں طرف سے خطرے میں

    مرا شعور بھی شاید وہ طفل کمسن ہے

    بچھڑ گیا ہے جو گمراہیوں کے میلے میں

    ہنر ہے شاعری شطرنج شوق ہے میرا

    یہ جائداد مظفرؔ ملی ہے ورثے میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY