کچھ کہوں کہنا جو میرا کیجیے

آسی غازی پوری

کچھ کہوں کہنا جو میرا کیجیے

آسی غازی پوری

MORE BYآسی غازی پوری

    کچھ کہوں کہنا جو میرا کیجیے

    چاہنے والے کو چاہا کیجیے

    حوصلہ تیغ جفا کا رہ نہ جائے

    آئیے خون تمنا کیجیے

    فتنۂ روز قیامت ہے وہ چال

    آج وہ آتے ہیں دیکھا کیجیے

    کس کو دیکھا ان کی صورت دیکھ کر

    جی میں آتا ہے کہ سجدا کیجیے

    فتنے سب برپا کئے ہیں حسن نے

    میری الفت کو نہ رسوا کیجیے

    حور جنت ان سے کچھ بڑھ کر سہی

    ایک دل کیا کیا تمنا کیجیے

    کر دیا حیرت نے مجھ کو آئنہ

    بے تکلف منہ دکھایا کیجیے

    جوش میں آ جائے رحمت کی طرح

    ایک اک قطرہ کو دریا کیجیے

    نام اگر درکار ہے مثل نگیں

    ایک گھر میں جم کے بیٹھا کیجیے

    مل چکے اب ملنے والے خاک کے

    قبر پر جا جا کے رویا کیجیے

    کون تھا کل باعث بے پردگی

    آپ مجھ سے آج پردا کیجیے

    کل کی باتوں میں تو کچھ نرمی سی ہے

    آج پھر قاصد روانا کیجیے

    راہ تکتے تکتے آسیؔ چل بسا

    کیوں کسی سے آپ وعدا کیجیے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY