کچھ تو بتاؤ شاعر بیدار کیا ہوا

عبید اللہ علیم

کچھ تو بتاؤ شاعر بیدار کیا ہوا

عبید اللہ علیم

MORE BYعبید اللہ علیم

    کچھ تو بتاؤ شاعر بیدار کیا ہوا

    کس کی تلاش ہے تمہیں اور کون کھو گیا

    آنکھوں میں روشنی بھی ہے ویرانیاں بھی ہیں

    اک چاند ساتھ ساتھ ہے اک چاند گہہ گیا

    تم ہم سفر ہوئے تو ہوئی زندگی عزیز

    مجھ میں تو زندگی کا کوئی حوصلہ نہ تھا

    تم ہی کہو کہ ہو بھی سکے گا مرا علاج

    اگلی محبتوں کے مرے زخم آشنا

    جھانکا ہے میں نے خلوت جاں میں نگار جاں

    کوئی نہیں ہے کوئی نہیں ہے ترے سوا

    وہ اور تھا کوئی جسے دیکھا ہے بزم میں

    گر مجھ کو ڈھونڈنا ہے مری خلوتوں میں آ

    اے میرے خواب آ مری آنکھوں کو رنگ دے

    اے میری روشنی تو مجھے راستا دکھا

    اب آ بھی جا کہ صبح سے پہلے ہی بجھ نہ جاؤں

    اے میرے آفتاب بہت تیز ہے ہوا

    یارب عطا ہو زخم کوئی شعر آفریں

    اک عمر ہو گئی کہ مرا دل نہیں دکھا

    وہ دور آ گیا ہے کہ اب صاحبان درد

    جو خواب دیکھتے ہیں وہی خواب نارسا

    دامن بنے تو رنگ ہوا دسترس سے دور

    موج ہوا ہوئے تو ہے خوشبو گریز پا

    لکھیں بھی کیا کہ اب کوئی احوال دل نہیں

    چیخیں بھی کیا کہ اب کوئی سنتا نہیں صدا

    آنکھوں میں کچھ نہیں ہے بجز خاک رہ گزر

    سینے میں کچھ نہیں ہے بجز نالہ و نوا

    پہچان لو ہمیں کہ تمہاری صدا ہیں ہم

    سن لو کہ پھر نہ آئیں گے ہم سے غزل سرا

    RECITATIONS

    عبید اللہ علیم

    عبید اللہ علیم

    عبید اللہ علیم

    کچھ تو بتاؤ شاعر بیدار کیا ہوا عبید اللہ علیم

    مآخذ
    • کتاب : Chand Chehra Sitara Aankhen (Pg. 71)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY