کوچۂ عشق سے کچھ خواب اٹھا کر لے آئے

عبید اللہ علیم

کوچۂ عشق سے کچھ خواب اٹھا کر لے آئے

عبید اللہ علیم

MORE BYعبید اللہ علیم

    کوچۂ عشق سے کچھ خواب اٹھا کر لے آئے

    تھے گدا تحفۂ نایاب اٹھا کر لے آئے

    کون سی کشتی میں بیٹھیں ترے بندے مولا

    اب جو دنیا کوئی سیلاب اٹھا کر لے آئے

    ہائے وہ لوگ گئے چاند سے ملنے اور پھر

    اپنے ہی ٹوٹے ہوئے خواب اٹھا کر لے آئے

    ایسا ضدی تھا مرا عشق نہ بہلا پھر بھی

    لوگ سچ مچ کئی مہتاب اٹھا کر لے آئے

    سطح ساحل نہ رہی جب کوئی قیمت ان کی

    ہم خزانوں کو تہہ آب اٹھا کر لے آئے

    جب ملا حسن بھی ہرجائی تو اس بزم سے ہم

    عشق آوارہ کو بیتاب اٹھا کر لے آئے

    اس کو کم ظرفی رندان گرامی کہیے

    نشے چھوڑ آئے مئے ناب اٹھا کر لے آئے

    انجمن سازئ ارباب ہنر کیا کہیے

    ان کو وہ اور انہیں احباب اٹھا کر لے آئے

    ہم وہ شاعر ہمیں لکھنے لگے جب لوگ تو ہم

    گفتگو کے نئے آداب اٹھا کر لے آئے

    خواب میں لذت یک خواب ہے دنیا میری

    اور مرے فلسفی اسباب اٹھا کر لے آئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY