کیا دکھ ہے سمندر کو بتا بھی نہیں سکتا

وسیم بریلوی

کیا دکھ ہے سمندر کو بتا بھی نہیں سکتا

وسیم بریلوی

MORE BYوسیم بریلوی

    کیا دکھ ہے سمندر کو بتا بھی نہیں سکتا

    آنسو کی طرح آنکھ تک آ بھی نہیں سکتا

    تو چھوڑ رہا ہے تو خطا اس میں تری کیا

    ہر شخص مرا ساتھ نبھا بھی نہیں سکتا

    پیاسے رہے جاتے ہیں زمانے کے سوالات

    کس کے لیے زندہ ہوں بتا بھی نہیں سکتا

    گھر ڈھونڈ رہے ہیں مرا راتوں کے پجاری

    میں ہوں کہ چراغوں کو بجھا بھی نہیں سکتا

    ویسے تو اک آنسو ہی بہا کر مجھے لے جائے

    ایسے کوئی طوفان ہلا بھی نہیں سکتا

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    وسیم بریلوی

    وسیم بریلوی

    RECITATIONS

    وسیم بریلوی

    وسیم بریلوی

    وسیم بریلوی

    کیا دکھ ہے سمندر کو بتا بھی نہیں سکتا وسیم بریلوی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY