لطف نہاں سے جب جب وہ مسکرا دئیے ہیں

وحشتؔ رضا علی کلکتوی

لطف نہاں سے جب جب وہ مسکرا دئیے ہیں

وحشتؔ رضا علی کلکتوی

MORE BYوحشتؔ رضا علی کلکتوی

    لطف نہاں سے جب جب وہ مسکرا دئیے ہیں

    میں نے بھی زخم دل کے ان کو دکھا دئیے ہیں

    کچھ حرف آرزو تھا کچھ یاد عیش رفتہ

    جتنے تھے نقش دل میں ہم نے مٹا دیئے ہیں

    فرط غم و الم سے جب دل ہوا ہے گریاں

    اس نے عنایتوں کے دریا بہا دیئے ہیں

    دیکھے ہیں تیرے تیور دھوکا نہ کھائیں گے اب

    اٹھتے تھے ولولے کچھ ہم نے دبا دیئے ہیں

    اس دل نشیں ادا کا مطلب کبھی نہ سمجھے

    جب ہم نے کچھ کہا ہے وہ مسکرا دیئے ہیں

    شوخ کر دیا ہے چھڑیوں سے ہم نے تم کو

    کچھ حوصلے ہمارے تم نے بڑھا دیئے ہیں

    کوئی تجھ کو دیکھے پردہ اٹھانے والے

    تو نے تجلیوں کے پردے گرا دیئے ہیں

    کرتا ہوں وحشتؔ ان سے عرض نیاز پنہاں

    اس کام کے طریقے دل نے بتا دیئے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY